( AH 1442 ) 2021 - ذو الحجة 20

ادارہ تحفظ معاشرہ

Save the Society

ادارہ تحفظ معاشرہ “Save the Society” (STS) ایک رجسٹرڈ تعلیمی، رفاہی و فلاحی ادارہ ہے، جسے اہلِ علم و دانش نے مشترکہ طور پر معاشرے کی ہمہ جہت خدمت کے لیے قائم کیا ہے۔ بلا تفریق، یہ ادارہ انسانیت کی بنیاد پر خدمتِ خلق کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

اغراض و مقاصد

1 ۔     بلا کسی تفریق کے انسانیت کی بنیاد پر خدمتِ خلق کا فریضہ انجام دینا اور سرزمینِ پاکستان میں پیامِ انسانیت، رواداری، مساوات، ایثار، ہمدردی، غم خواری، محبت، امن و سلامتی اور قومی یکجہتی کو عام کرنا۔

2۔      مسلمانوں کی زکوٰۃ کو مستحق افراد تک پہنچانے کی عملاً کوشش کرنا، تاکہ مسلمانوں کی غربت کم ہو اور کمزور مسلمانوں کی معیشت مستحکم ہو۔

3۔      مسلمانوں میں اخوتِ اسلامی، اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا شعور پیدا کرنا۔

4۔     علماءِ کرام و ائمہ عظام میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا۔

5۔     معاشرے سے مذہبی و مسلکی تشدد ختم کرنا  اور اسلام کے پیغامِ امن کی بنیاد پر رواداری اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرنا۔

6۔     حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا جذبہ اُمت میں پیدا کرنا۔

7۔     دینی و عصری تعلیم کے اداروں کا قیام، غریب بیماروں کا علاج، یتیموں کی کفالت، بیواؤں کی خبر گیری، معذوروں کی دیکھ بھال، مصیبت زدہ افراد کی امداد، بلا سود قرضِ حسنہ کے ذریعے غریب خاندانوں کے معاش کا مستقل بندوبست، مساجد کی تعمیر، آفاتِ ارضی و سماوی کے موقع پر ہنگامی امداد، بے روزگار افراد کے لیے روزگار فراہمی کے لیے مختلف شعبوں کا قیام۔

ادارہ کی خدمات / شعبہ جات

STS کی زیرنگرانی سماجی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے تعلیم، صحت، شعور و آگہی  اور فلاح عام کے کئی منصوبہ جات پر علماء کرام ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔ اس سلسلہ میں مختلف جگہوں پر درج ذیل شعبہ جات کام کر رہے ہیں:

(۱)   شعبہ مکاتب قرآنیہ:

            مختلف علاقوں کی مساجد اور گھروں میں اس وقت تیس سے زائد مکاتبِ قرآنیہ کام کر رہے ہیں، جن میں روزانہ عصر تا مغرب بچوں اور بچیوں کو جید اساتذۂ کرام ناظرہ قرآن، ضروری حفظ اور تربیتی نصاب باقاعدہ اہتمام کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔ اس طرح مدارس میں باقاعدہ داخلہ نہ لینے والے بچوں کو ان مکاتب کے ذریعے بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔

(۲)   شعبہ عربی زبان و ادب:

         عربی زبان کے فروغ اور اشاعت کے لیے اس شعبہ کا اجراء کیا گیا ہے، جس میں عربی ادب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عربی لکھنے، پڑھنے، بولنے اور عربی سے اُردو اور اُردو سے عربی ترجمہ کی پریکٹس کے ساتھ مربوط تعلیم دی جاتی ہے۔

(۳) شعبہ انگریزی زبان و ادب:

   ماہر کوالیفائیڈ اساتذہ کی زیرنگرانی تیار کردہ کورسز کے ذریعے علماء و فضلاء کو انگلش بول چال، لکھنے، پڑھنے، سمجھنے اور ترجمہ کرنے کا ماہر بنایا جاتا ہے۔

 (۴) چالیس روزہ دینی و تربیتی کورس سنٹرز کا قیام:

         عصری سکولز کے طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے گرمیوں کی تعطیلات کے دوران مختلف سنٹرز بناکر باقاعدہ نصاب کے ذریعے چالیس روزہ “فہم دین” تربیتی کورسز کا اجراء کیا جاتا ہے۔

 (۵) تدریب المعلّمین:

         دینی مدارس کے فضلاء اور ائمہ و خطباء کی رہنمائی کے لیے ادارہ کے زیراہتمام وقتا فوقتا ٹیچرز ٹریننگ اور دیگر علمی و فکری موضوعات پر سیمینارز اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

 (۶)   شریعت ہیلپ لائن و دارالافتاء:

         مسلمانوں کے خاندانی عائلی مسائل میں تنازعات کی صورت میں شرعی رہنمائی کے لیے شریعت ہیلپ لائن اور دارالافتاء کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ الحمد للہ کئی ایسے جوڑے جن کے تنازعات جدائی کی حد تک پہنچ چکے تھے، کاؤنسلنگ کے ذریعے ان کی ازدواجی زندگی دوبارہ بحال ہوچکی ہے۔

(۷) شعبہ ترویج پیامِ انسانیت:

         دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات اور عوام الناس میں اخلاقیات کی تعلیم کے لیے ایک مؤثر نظام قائم ہے۔ اسی طرح اسلام کے پیغامِ امن کو عام کرنے، فرقہ واریت، انتہا پسندی کو ختم کرنے اور مذہبی تنازعات کو مکالمے کے فروغ کے ذریعے حل کرنے کی مربوط کوششوں کے سلسلے میں ورلڈ کونسل آف ریلیجنز (عالمی مجلس ادیان پاکستان) کے نام سے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے۔

(۸) تقریری و تحریری مقابلوں کا انعقاد:

         ملّت میں حق گو اور بے باک مقررین و مصنفین پیدا کرنے کی غرض سے دینی مدارس کے طلباء کے درمیان ہر سال مختلف عنوانات پر تقریری و تحریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے  اور مختلف انعامات کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

(۹)  تعمیر مساجد:

         ایسے علاقے جہاں مسلمانوں کی آبادی ہونے کے باوجود مسجد نہ ہو تو ایسی جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کی فکر کی جاتی ہے۔

(۱۰)   ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز:

         نوجوانوں کو روزگار سے مربوط رکھنے کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کمپیوٹر ٹریننگ، موبائل ریپیئرنگ، الیکٹریکل وائرنگ وغیرہ کے کورس کروائے جاتے ہیں، جن کی بدولت نوجوانوں کو کہیں نہ کہیں بآسانی روزگار فراہم ہوجاتا ہے۔

(۱۱)  سلائی سنٹرز:

         غریب محلّوں میں ٹیلرنگ سنٹرز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر سنٹر پر ایک وقت میں  15 تا 20 خواتین تربیت حاصل کرتی ہیں۔

(۱۲) نکاح آسان (رشتہ سنٹر و شادی امداد):

         اس شعبہ کے ذریعے ہر عمر کے مرد و خواتین کے لیے مناسب رشتے تلاش کرکے نکاح کو آسان اور عام کرنے کا فریضہ سرانجام دیا جا رہا ہے۔ غریب و مستحق لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کا مکمل انتظام کیا جاتا ہے، اس شرط پر کہ وہ شادی STS کے دفتر میں ہی ہوگی اور دفتر ہی سے تاریخ کا تعیّن ہوگا۔

(۱۳) خدامِ دین فنڈ:

         ائمہ مساجد و مؤذنین، معلّمین مدارس و مکاتب کو ہنگامی حالات میں قرضۂ حسنہ فراہم کرنے کی غرض سے خدامِ دین فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

(۱۴) روزگار سروس:

         اس شعبہ کے تحت ایسے نوجوان جو روزگار سے محروم ہیں، ان کو روزگار فراہم

         کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(۱۵) وظیفہ بیوگان:

         غریب محلّوں میں سکونت پذیر بے سہارا بیواؤں میں ماہانہ و سالانہ وظائف کی

         تقسیم کی جاتی ہے۔

(۱۶) مائیکرو فنانس:

   چھوٹے کاروباریوں کو سودی لعنت سے بچانے کے لیے مائیکرو فنانس کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

(۱۷) رمضان راشن تقسیم:

ماہِ رمضان المبارک میں غریب روزہ داروں میں رمضان راشن تقسیم کا نظم کیا جاتا ہے۔

(۱۸) بلڈ ڈونیشن سروس:

         ہنگامی حالت میں بیماروں کو خون فراہم کرنے کے لیے، خون کا عطیہ دینے والوں کی تشکیل کی جاتی ہے اور بروقت خون فراہم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

(۱۹) اجتماعی قربانی و گوشت کی تقسیم:

         ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کے لیے سستی اور آسان اجتماعی قربانی کا نظم قائم کیا جاتا ہے، اور مستحقین میں گوشت کی تقسیم بھی کی جاتی ہے۔

Welcome Back!

Login to your account below

Create New Account!

Fill the forms below to register

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.